22564_295322840333_672380333_4061300_4067306_n.jpg

علم تاریخ نے اپنے دامن میں اچھی اور برُی ہر دوصفت کی حامل شخصیات کو سمیٹ کر پناہ دی ہے اس طرح انہیں زمانے کی دست برد اور شکستگی سے محفوظ کردیا ہے تاکہ آئینہئ تاریخ میں ماضی کے عکس و نقش کا مشاہدہ حال و استقبال کو جاندار اور شاندار بنانے میںمعاون ہو۔ لیکن بعض شخصیات کا پیکرِ احساس اتنا جاندار و شاندار ہوتا ہے کہ جنہیں تاریخ محفوظ رکھنے کا اہتمام کرے یا نہ کرے وہ شخصیات اپنی تاریخ آپ مرتب کرلیتی ہیں اس لئے کہ وہ عہد ساز اور تاریخ ساز ہستیاں ہوتی ہیں یہ شخصیات اپنی پہچان کیلئے مؤرخ کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ ان نادر زمن ہستیوں کے خوبصورت تذکرے کو تاریخ اپنے صفحات کی زینت بنانے کیلئے خود محتاج ہے اور مؤرخ ان کے تذکرے لکھ کر خود کو متعارف کرانے کا محتاج ہوتا ہے۔ ایسی ہی عہد ساز ہستیوں میں ایک مہر درخشاں وہ بھی ہے جسے شرق تا غرب شیخ الاسلام و المسلمین، محدث عصر، فقیہہ دہر، مجدد دین و ملت ، حامی سنّت، قامع بدعت، اعلیٰ حضرت وغیر ہم القابات و خطابات سے پہچانا جاتا ہے ۔ امام احمد رضا فاضل و محدث بریلوی علیہ الرحمۃ کے اسم گرامی کے اعزاز و اکرام کے بارے میں علامہ ہدایت اللہ بن محمود سندھی حنفی قادری مہاجر مدنی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔

”وہ (امام احمد رضا علیہ الرحمۃ) اس کے اہل ہیں کہ ان کے نام سے قبل اور بعد میں کوئی بھی فضیلت کا خطاب لگایا جائے۔” (معارف رضا 1986ء ، صفحہ102)

مجدد اما م احمد رضا علیہ الرحمۃ علم و فضل کا وہ خورشید ہیں کہ جس کی جلوہ گری انیسویں صدی عیسویں کے نصف آخر تا بیسویں صدی کے ربع اوّل کے عرصہ پر محیط ہے، اور یہ دور جس قدر پر آشوب تھا بلاد اسلامیہ میں کوئی دور بھی ایسا نہیں گذرا، فتنوں کی بیخ کنی اور فسادِ اُمت کے ذمہ دار مفسدین کو بے نقاب کرنے کیلئے امام احمد رضا نے فقہی بصیرت اور مدبرانہ فراست کے ذریعے ملت کی راہنمائی کا جو فریضہ انجام دیا وہ صرف آپ ہی کا خاصہ تھا۔ آپ نے جو شمع عشق رسالت فروزاں کی وہ آج بھی ملت کیلئے مینارہئ نور ہے۔ اور آئندہ بھی اس کی چمک دمک ماند نہیں پڑے گی۔ (انشاء اللہ جل مجدہ، و الرّسول علیہ الصلوٰۃ والسلام)

امام احمد رضا کا سینہ علوم و معارف کا خزینہ اور دماغ فکر و شعور کا گنجینہ تھا، اپنے بیگانے سب ہی معترف ہیں کہ شخصی جامعیت، اعلیٰ اخلاق و کردار، قدیم و جدید وعلوم و فنون میں مہارت ، تصانیف کی کثرت ، فقہی بصیرت ، احیاء سنت کی تڑپ، قوانین شریعت کی محافظت، زہد و عبادت اور روحانیت کے علاوہ سب سے بڑھ کر قیمتی متاع و سرمایہ عشق ختمی مرتبت (علیہ الصلوٰۃ والتسلیم) میں ان کے معاصرین میں ان کا کوئی ہم پلہ نہ تھا اور غالباً نہیں، بلکہ یقینا آج بھی سطور بالا صفات میں عالم اسلام میں امام احمد رضا کا ہمسر کوئی پیدا نہیں ہوا۔ آپ کی اسی انفرادیت کے بارے میں سید ریاست علی قادری علیہ الرحمۃ کہتے ہیں:

”امام احمد رضا کی شخصیت میں بیک وقت کئی سائنس داں گم تھے ، ایک طرف ان میں ابن الہیثم جیسی فکری بصارت اور علمی روشنی تھی تو دوسری طرف جابر بن حیان جیسی صلاحیت، الخوارزمی اور یعقوب الکندی جیسی کہنہ مشقی تھی، تو دوسری طرف الطبری ، رازی اور بو علی سینا جیسی دانشمندی، فارابی ، البیرونی ، عمر بن خیام، امام غزالی اور ابن ارشد جیسی خداداد ذہانت تھی دوسری طرف امام ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کے فیض سے فقیہانہ وسیع النظری اور غوث الاعظم شیخ عبدالقادرجیلانی علیہ الرحمۃ سے روحانی وابستگی اور لگاؤ کے تحت عالی ظرف امام احمد رضا کا ہر رخ ایک مستقل علم و فن کا منبع تھا ان کی ذہانت میں کتنے ہی علم و عالم ،گُم تھے۔” (معارف رضا جلد ششم صفحہ 124)

شمسی تقویم کی بیسویں صدی عیسوی اور قمری تقویم کی چودھویں صدی ہجری میں شانِ تجدّد اور محی ملت و دین کی حامل ذات امام احمد رضا کے سوا کسی اور کی قرار نہیں دی جاسکتی، اور اس صدی کو جیسے مجدّد و مصلح کی ضرورت تھی وہ تمام کمالات و اوصاف بدرجہ اتم اعلیٰ حضرت میں نظر آتے ہیں۔ دین اسلام کی اساسیات اور ایمان کی جملہ فروعات و جُزئیات پر بیک وقت مشرق و مغرب سے حملے ہورہے تھے ، ایسے موقع پر ضرورت تھی کہ مشرق میں فتنہ اُٹھانے والے مُنافقین کا مقابلہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لازوال ہتھیار سے کیا جائے اور مغرب کے مُلحد سائنس دانوں کے کائنات سے متعلق گمراہ کن نظریات کا مقابلہ کلامِ الٰہی کی شایانِ شان تفسیر، ”لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہ” کی بَدیہیات و یقینیات کے اجالے میں کیا جائے۔ چودھویں صدی ہجری میں ملت اسلامیہ کی اصلاح کیلئے جن علمی گوشوں اور شعبہ ہائے حیات میں قولاً و عملاً کام کی ضرورت تھی وہ تمام تقاضے امام احمد رضا علیہ الرحمۃ نے پورے کئے ایک ایک علم پر لکھا۔۔۔۔۔۔ اور ایک ایک فن پر لکھا ۔۔۔۔۔۔اور لکھتے ہی چلے گئے ۔۔۔۔۔۔مردہ علوم کو کئی صدیوں بعد زندہ کیا، بعض علوم اپنی اختراعات سے خود ایجاد فرمائے۔ امام کے اسلوب تحریر میں امام اعظم سے لے کر دیگر علماء و دانشور اور ہئیت دان کے کارناموں سے مزین دوسری صدی تا ساتویں صدی ہجری کی تصویر نظر آنے لگی، اسلامیان ہند ہی نے نہیں بلادِ عرب ومغرب اور افریقہ نے بھی اپنے اسلاف کے ماضی کو جیتا جاگتا محسوس کیا، تہذیب و تمدن اسلامی کے تابناک دور کی روشنی امام احمد رضا کی تحریروں سے پھوٹتی محسوس ہوئی۔

22564_295536480333_672380333_4062365_1632880_n.jpg

ماہر رضویات ، پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود مظہری مجدّدی ایجاد و اختراع کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں:

”ایجاد و اختراع کا دار و مدار فکر و خیا ل پر ہے، خیال کو اساسی حیثیت حاصل ہے ، قرآن کریم میں خیالوں کی ایک دنیا آباد ہے اور عالم یہ ہے

مجبور یک نظر آ، مختار صد نظر جما!

ہر خیال اپنے دامن میں صدیوں کے تجربات و مشاہدات سمیٹے ہوئے ہے ، جس نے قرآن کی بات مانی اس نے مختصر زندگی میں صدیوں کی کمائی کمالی۔ امام احمد رضا انہیں سعادت مندوں میں سے تھے جنہوں نے سب کچھ قرآن سے پایا، وہ قرآن کا زندہ معجزہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو علم لدّنی اور فیض سماوی سے نوازا تھا۔” (امام احمد رضا اور علوم جدیدہ و قدیمہ ، مطبوعہ اداریہ مسعودیہ کراچی، صفحہ ٨۔٧)

زمانہ طالب علمی میں ایک مرتبہ امام احمد رضا کو جیومیٹری کی گتھیاں سلجھاتے ہوئے دیکھ کر والد گرامی حضرت مولانا نقی علی خان نے فرمایا، ”بیٹا یہ تمام علوم تو ذیلی و ضمنی ہیں تم علوم دینیہ کی طرف متوجہ رہو، بارگاہِ رسالت سے یہ علوم تمہیں خود عطا کر دیے جائیں گے۔” پھر واقعی دنیا نے دیکھا کہ کسی کالج و یونیورسٹی اور کسی سائنسی علوم میں ماہر کی شاگردی کے بغیر تمام سائنسی علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل ہوئے اور ایسے مشاق ہوگئے کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سر ضیاء الدین کو ریاضی کے ایک لا ینحل مسئلہ کے جواب کیلئے امام احمد رضا سے رجوع کرنا پڑا اور امام احمد رضا نے فی البدیہہ جواب لکھ کر دیا، جبکہ ڈاکٹر سر ضیاء الدین صاحب مسئلہ کے حل کیلئے جرمنی جانا چاہتے تھے۔ بریلی کے بوریا نشین کی جدید علوم و فنون پر اس مہارت کو ڈاکٹر سر ضیاء الدین ملاحظہ کرکے حیران و ششدر تو تھے ہی مزید حیرانگی اس وقت بڑھی جب یہ معلوم ہو اکہ اس مولوی صاحب نے کسی غیر ملکی درسگاہ سے علوم جدیدہ کی تحصیل کیلئے کبھی رجوع نہیں کیا بلکہ یہ ذات خود ہی مرجع ہے۔ خلائق میں سے کوئی دنیا کیلئے اور کوئی دین کیلئے یہیں رجوع کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بیساختہ کہا کہ علم لدنی کے بارے میں صرف سنا ہی تھا آج آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اعلیٰ حضرت نے علوم سائنس میں اپنی خداداد مشاقی کی بنیاد پران علوم کی قد آور شخصیات بابائے طبعیات ڈیمو قریطس(٣٧٠ قبل مسیح) بطلمیوس (قبل مسیح) ، ابن سینا (٩٨٠ تا ١٠٣٧ئ) نصیر الدین طوسی (متوفی ٦٧٢ئ) ، کوپر نیکس (١٤٧٣ء تا ١٥٤٢ئ) کپلر (١٥٧١ ء تا ١٦٣٠ئ) ، ولیم ہر شل(سترہویں صدی عیسویں) ، نیوٹن (متوفی ١٧٢٧ئ) ملا جونپوری (متوفی ١٦٥٢ئ) گلیلیو (١٦٤٢ئ) آئن اسٹائن (١٨٧٩ تا ١٩٥٦ئ) اور البرٹ ایف پورٹا (١٩١٩ئ) کے نظریات کا ردّ اور ان کا تعاقب کیا ہے ، جبکہ ارشمیدس (متوفی ٢١٢ ق۔م) کے نظریہ وزن ، حجم و کمیت ، محمد بن موسیٰ خوارزمی (٢١٥ھ/٨٣١ء ) کی مساوات الجبراء اور اشکال جیومیٹری، یعقوب الکندی (٢٣٥ھ /٨٥٠ئ) ، امام غزالی (٤٥٠ھ تا ٥٠٥ھ/١٠٥٩ء تا ١١١٢ئ)، امام رازی (٥٤٤ھ تا ٦٠٦ھ /١١٤٩ء تا ١٢١٠ئ) کے فلسفہئ الہٰیات، ابو ریحان البیرونی (٣٥١ھ تا ٤٤٠ھ/٩٧٣ء تا ١٠٤٨ئ) ، ابن الہیثم (٤٣٠ھ/١٠٣٩ئ) ، عمر الخیام (٥١٧ھ /١١٢٣ئ) کے نظریاتِ ہیّت و جغرافیہ، ڈیمو قریطس کے نظریہ ایٹم اور جے جے ٹامس کے نظریات کی تائید کی اور دلائل عقلیہ سے پہلے آیات قرآنیہ پیش کیں۔ امام احمد رضا پر یہ عطا۔۔۔۔۔۔یہ نوازش۔۔۔۔۔۔یہ کرم ۔۔۔۔۔۔یہ عنایت ۔۔۔۔۔۔ یہ التفات۔۔۔۔۔۔یہ فیض ۔۔۔۔۔۔سب کچھ محض اس بنا پر تھا کہ اعلیٰ حضرت کو اسلام کی عظیم انقلابی قوت جذبہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حاصل تھا اور اسی والہانہ عشق سے مسلمانوں کی دینی ترقی ، سیاسی کامیابی ، علم کی ترویج، معاشی و عمرانی استحکام اور ثقافتی و تمدنی الغرض ہر سطح کی کامیابیاں و کامرانیاں وابستہ ہیں حقیقت ہے کہ جسے محبت رسول کا صادق جذبہ ہاتھ آگیا دین و دنیا کی تما م دولت اسی کے دامن میں آکر سمٹ جاتی ہیں ، امام احمد رضا کا یہی تجدیدی کارنامہ ہے جس کے سب ہی معترف ہیں۔

دنیا میں جہاں کہیں بھی غلبہ دین اسلام یا احیاء اسلامی کی تحریکیں اٹھی ہیں وہ عشق رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مرہونِ منت رہی ہیں انگلستان کے ایک مشہور مستشرق پروفیسر ایچ ۔ اے گب نے اپنی کتاب اسلامک کلچر میں لکھا ہے،

”تاریخ اسلام میں بارہا ایسے مواقع آئے ہیں کہ اسلام کے کلچر کا شدت سے مقابلہ کیاگیا ہے لیکن بایں ہمہ مغلوب نہ ہوسکا اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ صوفیا کا اندازِ فکر فوراً اس کی مدد کو آجاتا تھا اور اس کو اتنی قوت و توانائی بخش دیتاتھا کہ کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہ کرسکتی تھی ۔(اسلامک کلچر ، صفحہ ٢٦٥، مطبوعہ لندن ١٩٤٢ء)

صوفیا کا یہیپیغام ”محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ” تھا کہ جسے اعلیٰ حضرت نے اپنی تمام زندگی اپنا کر اپنی تصنیفات و تالیفات کی روشنائی کے ذریعے ملت اسلامیہ کو منور کیا، آپکو معلوم تھا کہ اگر مسلمانوں کے دل عشق رسالت مآب اسے خالی ہوگئے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت بھی نہ تو انہیں اپنی کھوئی عظمت واپس دلا سکتی ہے اور نہ اصلاح و تجدید کی ہزاروں تحریکیں انہیں اپنی منزل مراد تک پہنچا سکتی ہیں۔ مغربی استعمار کی مذمو م سازش یہی تھی کہ مسلمانوں میں سے جذبہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیا جائے، جس کی طرف شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے بھی یوں اشارہ کیا ہے:۔

یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بدن سے نکال دو

فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

22564_295684745333_672380333_4062973_4993071_n.jpg

اعلیٰ حضرت کا یہ تجدیدی کارنامہ ہے کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بشری و انسانی اوصاف و کمالات کے ساتھ ساتھ معجزاتی و نورانی پہلوؤں کے بلند و بالا کمالات نبوت اور فضائل و شمائل کو احاطہ تحریر میں لاکر ملت اسلامیہ کی روحانی اقدار کو تنزلی کا شکار ہونے سے بچالیا ، آپ نے اپنی علمی درسگاہ اور روحانی خانقاہ بریلی سے ، اس پر فتن دور میں ملتِ اسلامیہ کے سفینے کو ساحل مراد تک پہنچانے کیلئے جو کچھ ضروری تھا وہ اقدامات کیے۔ ہندوستان کے مشہور و ممتاز عالم و ادیب مولانا عبدالجبار رہبر اعظمی اپنے مقالہ میں نہایت جامعیت سے اعلیٰ حضرت کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں،

”جب شاطرانِ مذہب نے قرآن کے تراجم میں کتر بیونت کرکے اسلامیوں کے عقائد پر حملہ کرنا چاہا تو اس قوم کو قرآن عظیم کا صحیح ترجمہ دیا، جب فریب کاروں نے اس کی تفسیر میں اپنی رائے شامل کرکے قوم کو گمراہ کرنا چاہا تو مسلمانوں کو ہوشیار رکھنے کیلئے” تمہید ایمان بآیات القرآن ”دیا، جب اہل ضلالت نے ملت کو سنت کا نام لیکر احادیث کے غلط معانی و مطالب بتانے شروع کیے تو اس نے اہلِ ایمان کو سینکڑوں کتابیں دیں۔ جب اہل بدعت نے تقلید کے لباس میں غیر مقلدیت اور فقہ کے روپ میں حیلہ سازیوں اور گمراہیوں سے امت کے اعتقادات و اعمال کو زخمی کرنا چاہا تو اس نے قوم کو وہ لازوال فتاویٰ دیے جو اپنے دلائل و براہین سے ہمیشہ تابندہ رہیں گے۔ دشمنانِ اسلام نے جب اس ذات قدوس اور بے عیب خدا پر کذب کے معنی درست کرکے اسلامی عقیدہ توحید پر ضرب لگانے کی کوشش کی تو اس کا قلم ان کیلئے شمشیر خار شگاف بنا، جب شاتمانِ نبوت نے مسلمانوں کے عقائد نبوت کو مجروح کرنا چاہا تو اس کا قلم ان پر ذوالفقارِ حیدری بن کر ٹوٹا۔ جب دین و مذہب کے ڈاکوؤں نے مومنوں کے سینوں سے عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھین لینے کا خواب دیکھا تو ان کے خوابوں کے قلعے کو تعبیر سے پہلے اسکی زبان، قلم اور عمل نے مسمار کر کے رکھ دیا، جب مکاروں نے پیری اور شیخی کے لبادے اوڑھ کر ملت کے دل کے فانوس میں بزرگانِ دین و عمائدین اسلام کی عقیدت کے جلتے چراغ کو بجھانے کیلئے ناپاک تمناؤں کے محلات تعمیر کئے تو اس نے سعی پیہم سے ان کو زمین بوس کرکے تہس نہس کردیا۔ جب مولویت نما عیاروں نے آثار اسلام اور مقامات مقدسہ کی عزمت و حرمت کو غلامان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دماغ سے نکال پھینکنے کی جرأت کی تو اس کی زبان پاک اور قلم بیباک نے ان کی چالاکیوں کے پردوں کو چاک کیا سنئے کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، مسیح موعود کے نام کا فتنہ ہو یا مہدی معہود کے نام کا ، شانِ نبوت کی توہین کا ہو یا فضائل رسالت کیتنقیص کا ، نیچریت کا ہو یا دہریت کا ، تقلیدی ہو یا غیر مقلدیت کا ، تفضیلیت کا ہو یا رافضیت کا ، خارجیت کا ہو یا بدعیت کا ان تمام فتنوں کے سینوں میں اس کا قلم اسلام و سنیت کی شمشیر و سناں بن کر اُترگیا اور اس کی زبانِ حق ترجمان اسلامیوں کیلئے سپر بن گئی۔

وہ رضا کے نیزے کی مار ہے کہ عدو کے سینے میں غار ہے
کسے چارہ جوئی کا وار ہے ؟ کہ یہ وار وار سے پار ہے

(ماہنامہ قاری دہلی امام احمد رضا صفحہ ٢٧٠)

امام احمد رضا کے تمام مجددانہ کمالات جذبہ عشق رسول میں مضمر ہیں۔

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی (اقبال)

امام احمد رضا کے علم نے تمام شعبہ ہائے علوم کا آپ کی شخصیت نے بحیثیت قائد و راہنما تمام شعبہ ہائے حیات کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ جناب سید محمد جیلانی بن سید محامد اشرف ایڈیٹر ”المیزان” بمبئی امام احمد رضا کے تبحر علمی کے متعلق یوں ر قمطراز ہوتے ہیں،

”اگر ہم ان کی علمی و تحقیقی خدمات کو ان کی 66سالہ زندگی کے حساب سے جوڑیں تو ہر 5گھنٹے میں امام احمد رضا ایک کتاب ہمیں دیتے نظر آتے ہیں ، ایک متحرک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا جو کام تھا امام احمد رضانے تن تنہا انجام دے کر اپنی جامع شخصیت کے زندہ نقوش چھوڑے۔(المیزان، امام احمد رضا نمبر مارچ ١٩٧٦ئ)

سچ کہا ہے شاعر نے۔

معارف کا سمندر موجزن ہے جسکے سینے میں
وہ مقبولِ درِ خیر البشر احمد رضا تم ہو

وادی رضا کی کوہِ ہمالہ رضا کا ہے
جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے

اگلوں نے بہت کچھ لکھا ہے علم دین پر
لیکن جو اس صدی میں ہے تنہا رضا کا ہے

22564_295395170333_672380333_4061549_3384090_n.jpg

امام احمد رضا کی ایک ہزار سے زائد تصنیفات (مطبوعہ و غیر مطبوعہ) کے جائزہ کے بعد محققین کی قطعی جدید تحقیق کے مطابق یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ایک سو بیس١٢٠ قدیم و جدید، دینی ، ادبی، اور سائنسی علوم پر امام احمد رضا علیہ الرحمۃ کو دسترس حاصل تھی۔ راقم نے زیر نظر مضمون کے آخر میں ١٢٠ علوم و فنون کا شماریاتی جدول دے دیا ہے تاکہ کوئی اس تعداد کو مبالغہ نہ سمجھے۔

١٢٠ علوم میں ٤٠یا اس سے زائد کا تعلق دینی علوم کی اساس و فروع سے ہے جبکہ ادب سے متعلق ١٠ ، روحانیت سے متعلق٨، تنقیدات و تجزیہ و موازنہ سے متعلق ٦ اور طب و ادویات سے متعلق ٢ علوم کے علاوہ بقایا ٥٤ علوم کا تعلق علوم عقلیہ (سائنس) سے ہے ۔ امام احمد رضا محدث و فاضل بریلوی کی سائنسی علوم پر کتب و رسائل کی تعداد ایک سو پچاس سے زائد ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری صاحب لکھتے ہیں: ”امام احمد رضا نے یہ رسائل (جدید علوم و سائنس) اُردو، فارسی، اور عربی تینوں زبانوں میں تحریر فرمائے ہیں۔ بعض رسائل و کُتب کی ضخامت سو صفحات سے بھی زیادہ ہے۔” (دیباچہ حاشیہ جامع الافکار ، صفحہ ٣)

اعلیٰ حضرت کے علوم کی فہرست کے مطالعہ سے قبل قارئین کے علم میں یہ بات ضرور ہونی چاہئے کہ فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ نے حافظ کتب الحرم شیخ اسماعیل خلیل مکی کو جو عربی میں سند اجازت دی ہے اس میں 55علوم و فنون کا ذکر فرمایا ہے محدث بریلوی کے اپنے قلم فیض رقم سے مندرجہ 55علوم و فنون کی فہرست نہایت جامع ہے جس میں بعض علوم فی زمانہ متعدد شاخوں و شعبوں میں تقسیم ہوگئے ہیں اور ان کی شناخت کیلئے علیحدہ عنوانات ماہرینِ تعلیم مختص کر چکے ہیں۔ امام احمد رضا کی تصنیفات میں مرقوم مضامین ان علوم سے بھی بحث کرتے نظر آتے ہیں کہ جن کا تذکرہ امام احمد رضا نے اپنے علوم کی فہرست میں نہیں کیا ہے آپ کو ان پر دسترس حاصل تھی مثلاً ، معیشت اور اس کے ضمنی علوم تجارت، بینکاری، اقتصادیات اور مالیات کا اعلیٰ حضرت نے شمار نہیں کیا لیکن اسلامیان ہند کی فلاح کیلئے تدابیر بیان کرتے ہوئے مجدد اعظم کی ذات میں ماہر بنکار، وزیر خزانہ و مالیات اور معلم اقتصادیات کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ امام احمد رضا علیہ الرحمۃ کے بیان کردہ علوم کی ترتیب یوں ہے

(١) علم القران (٢)حدیث (٣)اصول حدیث (٤) فقہ حنفی (٥) کتب فقہ جملہ مذاہب (٦) اصولِ فقہ (٧) جدل مہذب (٨) علم تفسیر (٩) عقائد و کلام (١٠) نحو (١١) صرف (١٢)معانی (١٣) بیان (١٤) بدیع (١٥) منطق (١٦) مناظرہ (١٧) فلسفہ (١٨) تکسیر (١٩) ھئیات(٢٠) حساب (٢١) ہندسہ (٢٢) قرأت (٢٣) تجوید (٢٤) تصوف (٢٥) سلوک (٢٦) اخلاق (٢٧) اسماء الرجال (٢٨) سیر (٢٩) تاریخ (٣٠) لغت (٣١) ادب معہ جملہ فنون (٣٢) ارثما طیقی (٣٣) جبر و مقابلہ (٣٤) حساب سینی (٣٥) لوگارثمات (٣٦) توقیت (٣٧) مناظرہ مرایا (٣٨) علم الاکر (٣٩) زیجات (٤٠) مثلث کروی (٤١) مثلث سطح (٤٢) ہیاۃ جدیدہ (٤٣) مربعات (٤٤) جفر (٤٥) زائرچہ (٤٦) نظم عربی (٤٧) نظم فارسی (٤٨) نظم ہندی (٤٩) نثر عربی (٥٠) نثر فارسی (٥١) نثر ہندی (٥٢) خط نسخ (٥٣) نستعلیق (٥٤) تلاوت مع تجوید (٥٥) علم الفرائض (الاجازۃ الرضویہ)

اب آپ ١٢٠ علوم کی مفصل فہرست ملاحظہ فرمائیں تاہم محققین اور علماء کرام سے ملتمس ہوں کہ استدراک پر فقیر کی اصلاح بھی فرمائیں۔

22564_295685330333_672380333_4062976_2276757_n.jpg

امام احمد رضا کی علمی و تحقیقی کہکشاں کے ١٢٠ ستاروں کی فہرست

قرأت
Recitation of the Holy Quran

تجوید
Phonography Spelling

تفسیر
Explanation of Quran

اصولِ تفسیر
Principal of Explanation

رسم الخط القرآن
Writership In Deffrent style of quranic letters

علم حدیث
Tradition of the Holy Prophet

اصول حدیث
Principal of God’s Masenger’s Traddition

اسانید حدیث
Documentry Proof of Traditions Citation of Authorities

اسماء الرجال
Cyclpedia of Narrator Tradition Branch of knowledge Judging Merits

جرح و تعدیل
Critical Examination

تخریج احادیث
Talk & Put Referencess of Traditions

لغت حدیث
Colloquial Language of Traditions.

فقہ
Islamic Law

اصول فقہ
Islamic Jurisprudence

رسم المفتی
Legal Opinion Judicial Verdict

علم الفرائض
Law of Inheritance and Distribution

علم الکلام
Scholastic Philosophy

علم العقائد
Article of Faith

علم البیان
Metaphor

علم المعانی
Rhetoric

علم البلاغت
Figure of Speach

علم المباحث
Dialectics

مناظرہ
Polemic

علم الصرف
Etymology Morphology

علم النحو
Syntax (Arabic Grammer)

علم الادب
Literature

علم العروض
Science of Prosody

علم البرو البحر
(Ilm-ul-Barr-Wal-Baher)

علم الحساب
Arithmetic

ریاضی
Mathemetic

زیجات
Astronomical Tables

تکسیر
Fractional Numeral Maths

علم الہندسہ
Geometry

جبر ومقابلہ (الجبرائ)
Algebra

مثلثات(مسطح وکروی)
Trigonometry

ارثما طیقی
Greek Airthmetic

علم تقویم
Almanac

لوگارتھم
Logarethim

علم جفر
Numerology Cum Literology

رمل
Geomancy

توقیت
Reckoning of Time

اوفاق (علم الوفق)
۔۔۔۔۔

نجوم
Astrology

فلکیات
Study in form of Heavens

ارضیات
Geology

علم مساحت الارض
Geodesy Survey (Mensuration)

جغرافیہ
Geography

طبیعات
Physics

مابعد الطبیعات
Metaphysics

کیمیا
Chemistry

معدنیات
Mineralogy

طب و حکمت
Indigenous Syustem of Medicine

ادویات
Pharmacology

نباتات
Botany (Phytonomy)

شماریات
Statistics

اقتصادیات
Political Economy

معاشیات
Economics

مالیات
Finances

تجارت
Trade (Commerce)

بنکاری
Banking

زراعت
Agricultureal Study

صوتیات
Phonoetics (Phonology)

ماحولیات
Ecology (Environment)

سیاسیات
Politics (Strategy)

موسمیات
Meterorology

علم الاوزان
Weighing

شہریات
Civics

علم عملیات
Practicalism

سیرت نگاری
Bio Graphy of Holy Prophet

حاشیہ نگاری
Citation

نثر نگاری
Composition

تعلیقات
Scholia

تشریحات
Detailed Comments

تحقیقات
Research Study

تنقیدات
Critiqe Philosophy

ردّات
Rejection

شاعری
Poetry

حمدو نعت
Hamd – wa – Naat

فلسفہ (قدیم و جدید)
Phylosophy

منطق
Logic

تاریخ گوئی
Compose Achronogram

علم الایام
۔۔۔

تعبیر الرویاء
Interpretation of Dreams

رسم الخط نستعلیق، شکستہ و مستقیم
۔۔۔

استعارات
Figuration

خطبات
Oratory

مکتوبات
letters

ملفوظات
۔۔۔

پندو نصائح
Holmily

اذکار (اوراد و َ وظائف)
Prayers and Supplications

نقوش و تعویزات و مربعات
۔۔۔

علم الادیان
Comparative Religions

ردّ موسیقی
Refutation of the Music

عمرانیات
Socialogy

حیاتیات
Biology

مناقب
۔۔۔

علم الانساب
Genealogy

فضائل
Preference Study

زائرچہ و زائچہ
۔۔۔

سلوک
۔۔۔

تصوف
Mystagology

مکاشفات
Spirtual Study

علم الاخلاق
Ethics

تاریخ و سیر
History & Biography

صحافت
Journalism

حیوانیات
Zoology

فعلیات
Physiology

علم تخلیق کائنات
Cosmology

نفسیات
Psychology

علم البدیع
Science Dealing with Rhetorical (Divices)

لسانیات
Linguistics (Languages, Philology)

نظم عربی و فارسی و ہندی
Arabic, Persion & Hindi Peotry

نثرعربی و فارسی و ہندی
Arabic, Persion & Hindi Composition

ھئیت (قدیم و جدیدہ)
Old & Modren Astronomy

ارضی طبیعات
Geo Physics

علم خلیات
Cytology

قانون
Law

علم الاحکام
Take & Put Referencess of Ordinancess

علم قیافہ
Physiognomy

سالماتی حیاتیات
Molecular Biology

22564_295534260333_672380333_4062346_855646_n.jpg

امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمۃ کی تصنیفات و تالیفات میں مصروفیات ہر یوم ہوا کرتی تھیں لیکن بعض تصنیفات کے تاریخی نام اس اعتبار سے طے فرماتے کہ سالِ تالیف اور اشاعت دونوں اس سے ترشح ہوجائیں ، مثلاً آپ نے نعتیہ قصائد کا عنوان ”حدائقِ بخشش” رکھا جو کہ ١٣٢٥ھ کو واضح کرتا ہے ۔ رسالہئ ہٰذا ،اس سال ١٣٢٦ھ کے ماہِ صفر میں شائع ہو رہا ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت علیہ الرحمۃ کی ان تصنیفات کے بارے میں اپنے قارئین کو آگاہ کیا جائے جو ١٣٢٦ھ کو لکھی گئیں اور شائع ہوئیں، (جیسا کہ گذشتہ سال ١٤٢٥ ھ ”حدائق بخشش” کے١٠٠ برس پورے ہونے پر ”انجمن ضیائِطیبہ” نے ”ضیاء حدائق بخشش” کی اشاعت کا اہتمام کیاتھا ۔) اس طرح ہم اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کی تصنیفات کے ١٠٠ برس مکمل ہونے پر ،اللہ تبارک و تعالیٰ عز صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمہ، اور آقائے دوجہاں علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں نذرانہ سپاس پیش کریں کہ یہ تصنیفات آج بھی ملتِ اسلامیہ کیلئے راہنما ہیں۔

١۔ ”تمہید ایمان با آیاتِ قرآن”(١٣٢٦ھ )اس عظیم تالیف میں قرآنی آیات کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ادنیٰ گستاخی کفر ہے۔اس رسالے کی اشاعت مختلف سنّی اداروں سے تاحال لاکھوں کی تعداد میں ہوچکی ہے اور مطالعہ کرنے والے بدعقیدگی سے محفوظ ہوکر راہ یاب اور کامیاب ہوگئے ہیں۔
٢۔ ”البیان شافیا لفونو غرافیا ”(١٣٢٦ھ) فونو گراف سُننے سے متعلق سائنسی انداز میں استدلال کیا گیا ہے۔
٣۔ ”الرد الناہز علی ذام النہی الحاجز”(١٣٢٦ھ) بعض جاہلوں اور علمائے سوء کی زبان درازی کا جواب۔
٤۔ ”بدرالانوار فی آداب الآثار ”(١٣٢٦ھ) تبرکات و آثار ِ بزرگانِ دین سے متعلق فقہی احکامات پر مبنی ۔
٥۔ ” مفاد الجر فی الصلوٰۃ بمقبرۃِ او جنب قبر” (١٣٢٦ھ) قبر یا مقبرہ شریف کے پاس نماز پڑھنے کی تحقیق ۔
٦۔ ” فقہ شہنشاہ دان القلوب بیدِ المحبوب” (١٣٢٦ھ) سرورِ کائنات اکو شہنشاہ کہنے کی تحقیق۔
٧۔ ”چابک لیث بر اہلِ حدیث ” (١٣٢٦ھ) ربّ ذوالجلال عزوجل کی جناب اور حضور رحمۃاللعالمین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بار گاہ میں وہابیہ کے عقائد ِ فاسدہ کا ردّ۔
٩۔ ”المبین ختم النّبیین”(١٣٢٦ھ) نبی آخر الزماں علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خطاب ”خاتم النبیین ”میں حروف ”الف” اور ”لام” (یعنی اسم معرفہ) کی تحقیق۔

22564_295323100333_672380333_4061302_1856832_n.jpg