ایک اہم اور نادر تحریر ، میلاد شریف کے جواز میں پیش کر رہا ہوں جسے حضرت شاہ احمد سعید مجددی دہلوی علیہ الرحمہ نے مولوی اسماعیل دہلوی کے میلاد پر اعتراضات کے جواب میں تالیف کیا تھا اور یہ اس اعتبار سے بھی مناسب ہے کہ ماہِ ربیع الاول شریف کی ٢ تاریخ کو مدینۃ المنورہ میں آپ کا وصال ہو ا۔

اثبات المولد و القیام
تحریر: حضرت شاہ احمدسعید مجددی دہلوی علیہ الرحمۃ
(یہ رسالہ مولوی اسماعیل دہلوی کے عقائد اور مولوی محبوب جعفری کی گمراہ کتاب کے رد میں تیرہویں ہجری میں تالیف فرمایا)

سب خوبیاں اللہ تعالیٰ کے لئے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اگرچہ کافروں کو ناپسند ہو ، حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اور آنکھوں کے نور آپ کے آل و اصحاب پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں۔

میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دلائل پوچھنے والے اے عالمو! یاد رکھو! میلاد شریف کی محفل میں آپ کی کمال شان پر دلالت کرنے والی آیات، صحیح احادیث، ولادتِ باسعادت، معراج شریف ، معجزات اور وفات کے واقعات کا بیان کرنا ہمیشہ سے بزرگانِ دین کا طریقہ رہا ہے لہٰذا تمہارے انکار کی ضد کے سوا کوئی وجہ نہیں۔ اگر تم مسلمان ہو اور محبوب رب العالمین سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال سننے کا شوق ہے تو پاس آؤ اور (ہم سے احوالِ مصطفی) سنو تمہیں پتہ چلے کہ ہمارا دعویٰ حقیت پر مبنی ہے ، محفل میلاد دراصل وعظ و نصیحت ہے اس کے لئے جو کان لگائیں اور متوجہ ہوں ، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔

”نصیحت کرو بے شک نصیحت مومنین کیلئے مفید ہے” ہمارے زمانہ کے جہلائ، جو اپنے آپ کو ”پڑھا لکھا” اور ”صالحین” سمجھتے ہیں کے وعظ کی طرح نہ ہو جو انبیائ، اولیاء کی توہین اور مومنین کی غیبت کا مجموعہ ہوتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں غیبت سے منع کیا ہے۔ ارشاد ہے:۔ ”ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی اپنے مرے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ تمہیں ہر گز گوارا نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔” جاہل واعظ خود گمراہ ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں خود برباد ہوئے ، دوسروں کو برباد کرتے ہیں، اپنے آپ سے بے خبر چند بے وقوف ، شر پسند اور متکبر اگر چراغ تک پہنچتے ہیں تو ہوا بن جاتے ہیں(یعنی چراغ ہدایت کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں) اور دماغ تک پہنچتے ہیں تو دھواں ہوجاتے ہیں۔ (یعنی اس کو تاریک کرنے کی کوشش کرتے ہیں) اللہ تعالیٰ ان سے بچائے۔ ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ کا ہی ذکر ہے۔ حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل آئے اور کہا بے شک میرا اور آپ کا رب فرماتا ہے ،آپ جانتے ہیں میں نے آپ کا ذکر کیسے بلند کیا ؟ میں نے کہا اللہ ل بہتر جانتا ہے(جبرائیل نے ) کہا اللہ فرماتا ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے ، آپ کا میرے ساتھ ذکر کیا جائے۔”ابن عطا سے روایت ہے کہ میں نے (اللہ نے) آپ کے ساتھ اپنے ذکر کو تکمیل ایمان کا ذریعہ بنایا ، ابنِ عطاء ہی سے روایت ہے کہ میں آپ کو اپنا ذکر بنادیا جس نے آپ کا ذکر کیا اس نے میرا ذکر کیا (شفاء)۔ (ان دلائل کے ہوتے ہوئے) جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر سے روکے وہ شیطانی لشکر سے ہے ، جس کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے نفرت ہے کیونکہ مومنِ صادق تو ذکر محبوب کا مشتاق ہوتا ہے اور ذکر محبوب سے لذت پاتا ہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے

اَعِدْ ذِکْرَ نُعْمَانٍ لَنَا اِنَّ ذِکْرَہ،۔۔۔۔۔۔ہُوَا لْمِسْکُ مَا کَرَّ رتَہ، یَتَضَوَّعْ
”ہمارے سامنے نعمان کابکثرت زکر کر، بلا شبہ اس کا ذکر جتنی دفعہ کرو گے کستوری کی طرح مہکے گا

محب تو ذکر محبوب سننے کیلئے مال، اولاد ، ازواج، جان سب کچھ قربان کردیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ں کا طریقہ تھا لہٰذا جس کا دل چاہے اللہ کی فوج میں شامل ہوجائے اللہ کی فوج یقینا کامیاب ہے اور جس کا دل چاہے شیطانی ٹولے میں شامل ہوجائے شیطانی ٹولہ خسارے میں ہے۔ اب ہم اشرار کے علی الرغم اکابر کی پیش کردہ خاص دلیلیںبھی ذکر کرتے ہیں ۔ حافظ ابو الفضل ابن حجر نے حدیث سے ایک ضابطہ کا استخراج فرمایا ہے فرماتے ہیں کہ:”حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف تشریف لائے تو وہاں کے یہودیوں کو عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا تو ان سے دریافت فرمایا کہ تم عاشورہ کا روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ دن نہایت مقدس ہے مبارک ہے اسی دن اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق فرمایا اور موسیٰ کو نجات بخشی اور ہم تعظیماً اس دن کا روزہ رکھتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہم موسیٰ کا دن منانے میں تم سے زیادہ حقدار ہیں پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔” معلوم ہوا جس دن اللہ تعالیٰ کی کسی خاص نعمت کا نزول ہو یا کسی مصیبت سے نجات ہو نہ صرف اسی دن بلکہ ہر سال اس تاریخ کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر بجالانے کے مختلف طریقے ہیں، عبادت، قیام، سجود، صدقہ اور تلاوت وغیرہ اور یومِ میلاد شریف وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمتِ عظمیٰ اور رحمت عطا ہوئی لہٰذا قصہ موسیٰ کے ساتھ مطابقت کے لئے ہر سال یومِ میلاد کا اہتمام کرنا چاہئے۔ اور کہا ہمارے شیخ شیخ الاسلام علامہ جلال الدین سیوطی نے کہ حافظ ابو الفضل کی دلیل کے علاوہ بھی میرے پاس دلیل ہے اور وہ یہ کہ امام بہیقی نے حضرتِ انس سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عقیقہ اعلانِ نبوت کے بعد خود کیا ، حالانکہ آپ کے دادا عبدالمطلب آپ کی ولادت کے ساتویں روز آپ کا عقیقہ کر چکے تھے اور عقیقہ بار بار نہیں ہوتا ایک ہی دفعہ ہوتا ہے معلوم ہوا کہ ایسا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ادائے شکر کے طور پر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ اللعالمین بنایا اور ہمیں آپ کی امت ہونے کا شرف بخشا جس طرح آپ کے میلاد کی خوشی میں جلسہ کریں ، کھانا کھلائیں، اور دیگر عبادات اور خوشی کے جو طریقے ہیں کے ذریعے شکر بجالائیں۔ شرح سنن ابنِ ماجہ میں اس یوم کی تصریح بھی ہے اور امام جلال الدین نے فرمایا کہ میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم معظم اور مکرم ہے آپ کا یوم ولادت مقدس و بزرگ اور یومِ عظیم ہے آپ کا وجود عشاق کے لئے ذریعہ نجات ہے جس نے نجات کے لئے ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کا اہتمام کیا اس کی اقتداء کرنے والے پر بھی رحمت و برکت کا نزول ہوگا ۔ یومِ ولادت اس سے جمعہ کے مشابہ ہے کہ جمعہ والے دن جہنم میں آگ نہیں بھڑکائی جاتی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی مروی ہے اظہارِ خوشی اور اپنی بساط کے مطابق خرچ کرنا اور جو دعوتِ ولیمہ دے اس کی دعوت قبول کرنا بہت اچھا ہے ۔ امام ابو عبدا بن الحاج نے اس ماہ کی یوں فضیلت بیان فرمائی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کو فضیلت عطا فرمائی۔ سید الاولین و آخرین کی تشریف آوری اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت عظمی کا شکر بجالاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عبادات اور نیکی کی جائے اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ میں معمول سے زیادہ کچھ نہیں کیا کرتے تھے یہ آپ کی امت پر مہربانی اور شفقت تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کام اس لئے بھی چھوڑ دیتے تھے کہ کہیں امت پر فرض نہ ہوجائے ایسا امت پر شفقت کی وجہ سے تھا لیکن آپ نے اس ماہ کی فضیلت بیان فرمائی ہے ، ایک سائل نے بروز پیر روزہ رکھنے کے متعلق آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا ، یہ وہ دن ہے جس دن میں پیدا ہوا، آپ کا یومِ ولادت ربیع الاول کی شرافت کو مستلزم ہے ہمیں چاہئے کہ اس ماہ کا سخت احترام کریں ، اس مہینے کو ان تمام مہینوں ، زمانوں اور امکنہ سے زیادہ سمجھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بعض عبادات کیلئے خاص کیا ہے طاہر ہے کسی جگہ یا زمانہ کو بذات کوئی فضیلت نہیں فضیلت صرف ان واقعات کی وجہ سے ہے جو کسی جگہ یا زمانہ میں رونما ہوئے، ذرا غور کرو! ربیع الاول میںپیر کے دن کون تشریف لایا؟ کیا تمہیں معلوم نہیں؟ پیر والے دن روزہ رکھنا صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کی وجہ سے عظیم فضیلت رکھتا ہے ، ہمیں چاہئے کہ جب ربیع الاوال کی تشریف آوری ہو ، اول سے آخر تک انتہائی تعظیم و تکریم کا مظاہر کیا جائے اور یہ آپ کی سنت ہے کیونکہ آپ اس دن نیکی اور خیرات زیادہ کیا کرتے تھے جس دن کوئی فضیلت والا واقعہ پیش آتا۔ شیخ احمد بن خطیب قسطلانی مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں۔ ” اللہ تعالیٰ نے جمعہ میں ایک ایسی گھڑی کہ ہر دعا اس میں قبول ہوتی ہے صرف اس لئے رکھی گئی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام جمعہ کو پیدا ہوئے اور پیر جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت ہے کی کیا شان ہوگی؟”

(شاید کوئی یہ وہم کرے کہ) جس دن حضرت آدم علیہ السلام تشریف لائے اس دن سے خطبہ اور جماعت وغیرہ لازم کردیئے گئے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت جس دن ہوئی کوئی چیز لازم کیوں نہیں ہوئی؟

جواب: یہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اعزاز ہے آپ رحمۃ اللعالمین ہیں اور کسیعبادت کا لازم نہ ہونا بھی آپ کی رحمت اور سخاوت کی دلیل ہے۔ حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کو روزہ رکھنے کے بارے میںسوال کیا گیا آپ نے فرمایا اس دن ہی میں پیدا ہوا ہوں اور اسی دن مجھ پر نبوت نازل ہوئی (مسلم) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیر کو پیدا ہوئے اور پیر کو ہی آپ مبعوث ہوئے ، اور پیر کو ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی ، پیر کو ہی آپ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور پیر کو ہی حجاب اٹھائے گئے۔ (مسند)

حافظ ابو شامہ شیخ النووی اپنی کتاب ”الباعث علی انکار البدع والحوادث” میں فرماتے ہیں ”ایسے اچھے کاموں کی دعوت دینی چاہئے اور اہتمام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور تعریف کرنی چاہئے” شیخ امام عالم علامہ نصیر الدین مبارک اپنے قلمی فتویٰ میں فرماتے ہیں ۔ ”یہ جائز ہے ، خلوص نیت سے ایسا کرنے والے کو ثواب ہوگا۔” امام ظہیر الدین فرماتے ہیں۔ ”یہ حَسن ہے جب کہ اہتمام کرنے والے کا مقصد صحابہ کو جمع کرنا نبی امین کی بار گاہ میں ہدیہ صلوٰۃ پیش کرنا اور غرباء و مساکین کو کھانا کھلانا ہو، مذکورہ شرط کے ساتھ اس حد تک ایسے کام ہر وقت موجب ثواب ۔” شیخ نصیر الدین فرماتے ہیں، ”یہ عمدہ اجتماع ہے جس کے انعقاد پر ثواب ملے گا نیک لوگوں کو کھانا کھلانے اور اللہ کا ذکر کرنے کیلئے اور بارگاہ رسالت میں ہدیہ درود پیش کرنے کے لئے جمع کرنا عبادات کے اجرو ثواب کی زیادتی کا سبب ہے۔” امام ابو محمد عبدالرحمن بن اسماعیل کا ارشاد گرامی ہے، ”ہمارے زمانے کا بہترین نیا کام ہر سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے دن صدقات خیرات کرنا، زیب و زینت اور مسرت کا اظہار ہے ، کیونکہ اس میں فقراء پر احسان بھی ہے اور محفل میلاد کرنے والے کے دل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور تعظیم و تکریم کی علامت بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کے احسان کا شکر ہے کہ اس نے تمام جہانوں کیلئے باعث رحمت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا ، جمیع الانبیاء و المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ”

اسی طرح شیخ امام صدر الدین موہب بن عمر الجزری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فرمایا ہے ۔ ”یہ تمام عبادات سیرت شامیہ سے منقول ہیں”

اے سائل! تونے حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی علیہ الرحمۃ کے متعلق کہا ہے ”آپ محفل میلاد سے منع فرماتے تھے” تیرا یہ قول قطعاً غلط ہے ہمارے امام اور قبلہ نے گانے کی مجلس میں حاضر ہونے سے منع کیا ہے اگرچہ اس مجلس میں قرآن کی تلاوت و نعتیہ قصائد پڑھے جائیں، حضرت امام ربانی نے قرآن و حدیث کے پڑھنے سے منع نہیں فرمایا، جیسا کہ حضرت امام ربانی کی مراد سے بے خبر لوگوں نے گمان کرلیا ہے اس قسم کی بات حضرت امام ربانی پر بہت بڑا بہتان ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیںنصیحت فرماتاہے کہ ”تم ایسا کام کبھی نہ کرو اگر تم ایمان دار ہو” حضرت امام ربانی کے مکاتیب کا بنظر انصاف مطالعہ کرو مکتوب ٢٦٦ جلد اول میں حضرت امام ربانی فرماتے ہیں۔ ”جان لو سماع اور رقص در حقیقت لہو و لعب میں داخل ہیں۔”

آیۃ کریمہ:

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشتَرِیْ لَہْوَ الْحَدِیْثِ (سورۃ لقمان)
(ترجمہ) اور لوگوں میں (کوئی) ایسا بھی (نالائق ) ہے جو واہیات (خرافات) قصے کہانیاں مول لے لیتا ہے۔

سردو کی ممانعت میں نازل ہوئی ،مجاہد ،جو ابن عباس کے شاگر د اور کبائر تابعین سے ہیں فرماتے ہیں ”لہوالحدیث سے مراد سرود ہے ” (اس مسئلہ کی مزید تحقیق مطلوب ہو تو امام اہلسنت مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کا رسالہ ” اقامۃ القیامہ” دیکھیں ۔۔مترجم) حضرت مجاہد اللہ تعالیٰ کے قول لَا یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ (زور میں حاضر نہیں ہوتے)کی تفسیر بیان فرماتے ہیں ، ”یعنی سرود و سماع میں حاضر نہیں ہوتے۔” پس خیال کرنا چاہئے کہ مجلس سماع و رقص کی تعظیم کرنا بلکہ عبادت و طاعت جاننا کتنا برا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے ہمارے بزرگ خود بھی اس امر میں مبتلا نہیں ہوئے اور ہمیں بھی اس امر کی تقلید سے رہائی عطا فرمائی ، سنا ہے مخدوم زادے سرود کی طرف رغبت کرتے ہیں اور سرود قصیدہ خوانی کی مجلس جمعہ کی راتوں میں منعقد کرتے ہیں اور اکثر احباب اس امر میں موافقت کرتے ہیں بڑے تعجب کی بات ہے کہ دوسرے سلسلوں کے مرید تو اپنے پیروں کے عمل کا بہانہ بنا کر اس عمل کے مرتکب ہوتے ہیں اور شرعی حرمت کو مشائخ کے عمل سے دفع کرتے ہیں اگر چہ اس امر میں حق پر نہیں لیکن سلسلہ مجددیہ کے احباب اس امر کے ارتکاب میں کون سا عذر پیش کریںگے؟ ایک طرف حرمت شرعی اور دوسری طرف اپنے مشائخ کی مخالفت (بالفرض) حرمت شرعی نہ بھی ہوتی پھر بھی آئین طریقت میں کسی نئے امر کا پیدا کرنا قبیح ہے اور جب حرمت شرعی بھی ساتھ جمع ہوجائیں تو ایسے امر کیوں قبیح نہ ہوں؟ حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ مکتوبات کی تیسری جلد میں فرماتے ہیں” اچھی آواز سے صرف قرآن مجید اور نعت و منقبت کے قصائد پڑھنے میں کیا حرج ہے؟ منع تو یہ ہے کہ قرآن کے حروف کو تبدیل و تحریف کیا جائے اور مقامات نغمہ کا التزام کرنا اور الحان کے طریق سے آوازکو پھیرنا اور اس کے مناسب تالیاں بجانا جو کہ شعر میں بھی ناجائز ہیں اگر ایسے طریقہ سے مولود پڑھیں کہ قرآنی کلمات میں تحریف واقع نہ ہو اور قصائد پڑھنے میں شرائط مذکورہ متحقق نہ ہوں اور اس کو بھی صحیح غرض سے تجویز کریں تو پھر کون سی رکاوٹ ہے؟”پس معلوم ہوا کہ حضرت مجدد کی جو عبارات میلاد کے منکر بطور دلیل پیش کرتے ہیں اس عبارت سے حضرت مجدد کی مراد یہ ہے کہ ، ”قصائد و نعت خوانی میں نغمہ کا التزام کرنا الحان کے طریق سے آواز کو پھیرنا اور اس کے مناسک تالیاں بجانا منع ہے۔” جیسا کہ حضرت کی مذکورہ عبارت سے بالکل ظاہر ہے ، مخالفین نے غلط سمجھاہے ۔ حضرت امام نے مطلقاً محفل میلاد کو منع نہیں فرمایا پس حق ثابت ہوگیا۔ سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے اورپنا کھوٹا سکہ رائج کرنے کیلئے اس فرقہ باطلہ نے ایک نیا طریقہ نکالا ہے ہمارے بزرگوں کو بدنام کرتے ہیں کہتے ہیں فلاں بزرگ نے یوں لکھا ، فلاں نے لکھا اللہ تعالیٰ ان جھوٹ سے پاک ہے ، رہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرہ ولادت کے وقت کھڑا ہونے کا مسئلہ تو آپ کی حیات طیبہ میں آپ کی تعظیم کیلئے کھڑے ہونا صحابہ کرام سے ثابت ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں باتیں کیا کرتے تھے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو ہم بھی کھڑے ہوجاتے تا وقت یہ کہ حضورا اپنی کسی زوجہ محترمہ کے حجرہ میں داخل ہوجاتے۔ اور جان لو ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر جس طرح حیات طیبہ میں لازم تھی اسی طرح بعد از وصال بھی لازم ہیں اور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اس وقت ہوگی جب آپ کا ذکر کریں، حدیث بیان کریں، آپ کی سنت بیان کریں یا آپ کا اسم شریف اور سیرت پاک سنیں۔ شفانے اس روایت سے استنباط کیا کہ آپ کی موت و حیات، تعظیم و توقیر کے لحاظ سے برابر ہے۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرآپ کی حدیث و سنت کا بیان ادب و احترام سے کریں اور آپ کا اسم شریف اور سیرت پاک خضوع و خشوع سے سنیں اور آپ کے اہل بیت اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کی تعظیم کریں ۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ آپ کی حیات مبارکہ میں اور وصال کے بعد تعظیم و توقیر یکساں ہے۔ لہٰذا اگر کوئی عالمِ ارواح سے اس دنیا میں آپ کی تشریف آوری کی تعظیم بجالائیں تو کیا حرج ہے؟ حرمین شریفین کے علماء کرام اور مذاہب اربعہ مفتیانِ عظام اس کے مستحب ہونے کا فتویٰ دے چکے ہیں بلکہ ایک حنبلی مفتی نے تو اس کے وجوب کا قول کیا ہے۔ مکہ مکرمہ کے یکتائے روز گار مفسر، محدث مولانا عبداللہ سراج حنفی جن کے حلقہ درس میں اس نو مولود فرقہ کا سردار نہ صرف با زانوئے ادب حاضر ہوا کرتا تھا بلکہ آپ کی جامعیت کا معترف بھی تھا، نے بھی قیام کے مستحسن ہونے کا فتویٰ دیا ہے آپ کا مہر زدہ فتویٰ راقم کے پاس موجود ہے ، جو چاہے دیکھ سکتا ہے۔

اما م سید جعفر برزنجی قدس سرہ، العزیز اپنے رسالہ عقد الجوہر میں فرماتے ہیں:۔ ”بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر ولادت کے وقت قیام کرنا ان اماموں نے مستحسن سمجھا جو صاحب روایت و درایت تھے اس شخص کو مبارک ہوجس کا مقصد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ہے۔” اب ہم علماء مذکورین کے فتویٰ نقل کرتے ہیں جو بغور سننے کے قابل ہیں۔

سوال: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت اور مولود مبارک پڑھتے وقت عرب و عجم کے علماء و صلحاء کے درمیان مروج قیام کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟واجب ہے؟ یا مستحب ہے؟ یا مباح ہے؟ مدلل شافی کافی جواب ارشاد فرمائیں اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطافرمائے۔

جواب: عبداللہ سراج مکی مفتی حنفیہ فرماتے ہیں:

”یہ قیام مشہور اماموں میں برابر چلا آتا ہے اور اسے آئمہ و حکام نے برقرار رکھا ہے اور کسی نے رد و انکار نہیں کیا لہٰذا مستحب ٹھہرا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کون مستحق تعظیم ہے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، کی حدیث کافی ہے کہ جس چیز کو مسلمان بہتر سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بہتر ہے۔”

مشہور فقیہہ عثمان بن حسن دمیاتی شافعی اپنے رسالہ اثبات قیام میں فرماتے ہیں:۔

”حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر ولادت کے وقت قیام کرنا ایک ایسا امر ہے جس کے مستحب و مستحسن و مندوب ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے اور قیام کرنے والے کو ثواب کثیر اور فضل کبیر حاصل ہوگا کیونکہ یہ قیام تعطیم ہے، کس کی؟ اس نبی کریم صاحب خلق عظیم علیہ التحیۃ والتسلیم کی جن کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہمیں ظلمات کفر سے ایمان کی طرف لایا اور ان کے سبب ہمیں دوزخ سے بچا کر بہشت معرفت و یقین میں داخل فرمایا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم میں خوشنودی رب العالمین کی طرف دوڑنا ہے اور قوی ترین شعائر دین کا آشکار کرنا اور جو تعظیم کرے شعائر خدا کی تو وہ دلوں کی پرہیزگاری ہے اور خدا کی حرمتوں کی تعظیم کرنے والا اللہ تعالیٰ کے یہاں بہتر ہے۔”

اس کے بعد دلائل نقل کرکے فرمایا:

”ان سب دلائل سے ثابت ہوا کہ ذکر ولادت شریفہ کے وقت قیام مستحب ہے کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ہے” ۔ یہ خیال نہ کیا جائے کہ یہ قیام بدعت ہے اس لئے کہ ہم کہتے ہیں ہر بدعت بری نہیں ہوتی جیسا کہ یہی جواب امام محقق ولی ابو ذرعہ عراقی نے دیا جب ان سے مجلس میلاد کے متعلق پوچھا گیا تھا کہ مستحب ہے یا مکروہ؟ اور اس میں کچھ وار د ہوا ہے یا کسی پیشوانے کیا ہے تو جواب میں فرمایا۔ ”ولیمہ کھانا ہر وقت مستحب ہے پھر اس صورت کا کیا پوچھنا جب اس کے ساتھ اس ماہِ مبارک میں ظہورِ نبوت کی خوشی مل جائے اور ہمیں یہ امر سلف سے معلوم نہیں نہ بدعت ہونے سے کراہت لازم کہ بہت سی بدعتیں مستحب بلکہ واجب ہوتی ہیں جب ان کے ساتھ کوئی خرابی مضموم نہ ہو اور اللہ تعالیٰ توفیق دینے والا ہے۔” اس کے بعد آگے چل کر پھر ارشاد فرماتے ہیں ”بے شک امتِ مصطفیا کے اہل سنت و الجماعت کا اجماع و اتفاق ہے کہ قیام مستحسن ہے اور بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوتی۔”

امام علامہ مدالقی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں ۔ ” قوم کی عادت جاری ہے کہ جب مدح خواں ذکر میلاد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے تو لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں یہ بدعت مستحب ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش پر خوشی اور حضور کی تعظیم کا اظہار ہے۔”

امام صر صر حنبلی فرماتے ہے:

قلیل لمدح الصطفیٰ الحظ بالذہب ٭علی فضیۃ من خط احسن من کتب و ان ینہض الاشراف عنہ سماعہ ٭قیام ما صفو فا اوجثیا علیٰ الرکب۔
”مدح مصطفی کے لئے یہ بھی تھوڑا ہی ہے کہ جو سب سے اچھا خوش نویس ہو اس کے ہاتھ سے چاندی کے پتّر پر سونے کے پانی سے لکھی جائے اور جو لوگ شرف دینی رکھتے ہیں و ہ ان کی نعت سن کر صف باندھ کر سرو قد یا گھٹنوں کے بل کھڑے ہوجائیں۔”

جس کو اللہ تعالیٰ توفیق اور ہدایت دے اس کے لئے اس قدرکافی ہے ۔ وصلی اللہ علیٰ سیدنا محمد و آلہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا۔ یہ (فتویٰ) عثمان حسن ومیاطی شافعی خادم طلباء مسجد حرام و سابق مدر جامع ازہر نے دیا ہے اور املاء کرایا ہے۔

عبداللہ بن محمد المیر الحنفی مفتی مکہ مکرمہ فرماتے ہیں الحمدللہ عز شانہ رب زدنی علماً(اے اللہ میرا علم زیادہ فرما) ”سید الاولین و آخرین اکی ولادت مبارکہ کے ذکر کے وقت قیام کو بہت علماء نے پسند کیا ہے ۔ واللہ اعلم

حسین بن ابراہیم مفتی مالکیہ بمکہ فرماتے ہیں:

”الحمدللہ وحدہ اللھم ہدایۃ اللصواب ، ہاں ذکر ولادت کے وقت قیام بہت علماء نے پسند کیااور یہ قیام حسن ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم واجب ہے ۔ واللہ اعلم۔”

محمد عمرابن ابی بکر مفتی شافیعہ مکہ مکرمہ کا ارشاد ہے ۔ ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے ذکر کے وقت قیام واجب ہے کیونکہ روح اقدس حضور معلیا جلوہ فرما ہوتی ہے تو اس وقت تعظیم و قیام لازم ہوا ، جید علماء اسلام و اکابر نے قیام مذکور کو پسند فرمایا ہے۔”

محمد بن یحییٰ مفتی حنابلہ مکہ مشرفہ نے بھی ذکر ولادت کے وقت قیام کے استحباب و استحسان کی تصریح فرمائی ہے رہا تمہارا سوال کہ ”ہم نے ربیع الاول شریف میں ایک اپنی طرف سے ”تیسری عید ” بنالی ہے۔” تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم مسلمانوںکو لازم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف کے مہینہ کی نہ صرف ایک ہی رات بلکہ سب راتوں کو عید منائیں علمائے کبار اور محدثین کی تصریحات موجود ہیں۔

امام احمد بن خطیب العسقلانی نے اپنی کتاب مواہب اللدنیہ میں ذکر کیا ہے ۔ ”ابو لہب کی آزادکردہ لونڈی ثوبیہ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا، نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت بہ سعادت کیابو لہب کو جب یہ خوشخبری سنائی تو اس نے ثوبیہ کو آزاد کردیا ، جب ابولہب مر گیا تو کسی نے اسے خواب میں دیکھا پوچھا کیا گذری؟ ابو ہب نے کہا آگ میں جل رہاہوںہاں اتنی بات ضرور ہے کہ ہر پیر کی رات مجھ سے عذاب ہلکا کیا جاتا ہے۔ اور ابہام و سبابہ کے درمیانی مغاککی مقدار مجھے پانی مل جاتا ہے جسے میں انگلیوں سے چوس لیتا ہوں۔ اور اس لئے کہ میں نے حضرت کی ولادت کی خوشی میں اپنی لوڈی ثوبیہ کو آزاد کردیا تھا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا۔ ابن جوزی نے کہا۔”ابو لہب ایسا کافر جس کی مذمت میں قرآن پاک کی پوری سورۃ ”تبت یدا ابی لہب” نازل ہوئی کوعذاب جہنم کی تخفیف کا فائدہ ہوا، صرف اس لیے کہ اس نے ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی منائی جب ایککافر کو یہ فائدہ پہنچا تو اس موحد غلام کا کیا حال ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے مسرور ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں بقدر طاقت خرچ کرتا ہے۔”میری جان کی قسم اللہ کریم کی طرف سے اس کی یہی جزا ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل عمیم سے جنات نعیم میں داخل فرمائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے مہینہ میں اہل اسلام مہینہ سے میلاد کی محفلیں منقعد کرتے چلے آئے ہیں اور خوشی کے ساتھ کھانا پکاتے اور دعوتیں کرتے ہیں اور خوشی و مسرت کا اظہار کرتے اور نیک کاموںمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور آپ کے میلاد شریف کے پڑھنے کا خاص اہتمام کرتے ہیں چنانچہ ان پر اللہ کے فضل عمیم اور برکتوں کا ظہور ہوتا اور میلاد شریف مسلمانوں کیلئے حفظ و امان کا سال ہوجاتا ہے ۔ اور میلاد شریف کرنے سے دلی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر بہت رحمتیں نازل فرمائے جس نے ولادت کی مبارک روتوں کو خوشی و مسرت کی عیدیں بنالیا تاکہ یہ میلاد مبارک کی عیدیں سخت تریں علت و مصیبت ہوجائیں اس پر جس کے دل میں مرض و عناد ہے۔ بے شک میلاد، شب قدر سے بھی افضل ہے اس لئے کہ شب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی گئی جب کہ شب میلاد خود آپ کے ظہور کی رات ہے اور ظاہر ہے جس رات کو ذات اقدس سے شرف والی ہے اور اسمیں کوئی نزاع نہیں لہٰذا شب میلاد شب قدر سے صلی اللہ علیہ وسلم فضل ہوئی نیز لیلۃ القدر نزول ملائکہ کیوجہ سے مشرف ہوئی اور لیلۃ المیلاد بنفس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور مبارک سے شرف یاب ہوئی۔

(تیسری وجہ ) شب قدر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر فضل و احسان ہے اور شب میلاد میںتمام موجوداتِ عالم پر فضل و احسان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضورکو رحمت اللعالمین بنایا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے اللہ کی نعمتیں آسمان و زمین کی ساری مخلوق پر عام ہوگئیں۔ لہٰذا شب میلاد افضل ہے۔ یہ کچھ ذکر کیا گیا ہے ہمارے کثیر دلائل کا ایک حصہ ہے اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے اس کے لئے اس قدر کافی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ”اور اندھوں کو تم گمراہی سے ہدایت کرنے والے نہیں تمہارے سنائے تو وہی سنتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ مسلمان ہیں۔” (٨١/٢٧) رہا تمہارا یہ الزام کہ ہم کسی نئے مذہب کے مدعی ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم بحمدہ تعالیٰ دین اسلام پر قائم ہیں سلف و خلف میں مشہور ہیں اگرچہ ناسمجھوں پر مخفی رہے حضرت سعدی نے کیا خوب کہا ہے کہ :” گر نہ بیند بروز شپر٭چشمہ آفتاب راچہ گناہ”اگر کوئی اندھا ہے تو اس میں سورج کا کیا گناہ ہے ؟ اگر الو دن کو نہ دیکھ سکتے تو سورج کے چشمہ کا کیا گناہ ہے؟” ہمارا اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد ہے نہ اس کا کوئی شریک ہے نہ مثل ہے نہ اس کی ضد ہے نہہمسر، اس کے شایان شان وہی اوصاف ہیں جو اس نے خود بیان فرمائے ، اس کے مناس وہی اسماء ہیں جو خود اس نے اپنی ذات کے لئے تجویز فرمائے ۔ وہ نہ جسم نہ جوہر نہ مکین بلکہ مکین و مکان کا خالق ہے۔ وہ نہ عرض نہ اس کیلئے اجتماع نہ افتراق ، نہ اس کے اجزاء نہ اس کو ذکر تھکا سکتا ہے نہ پریشانی لاحق ہو سکتی ہے الفاظ و عبارات اس کی حقیقت بیان کرنے سے قاصر، اشارات اس کا تعین کرنے سے عاجز افکار احاطہ نہیں کرسکتے آنکھیں ادارک نہیں کرسکتیں۔ ہر چیز کی اس کے نزدیک ایک خاص مقدار ہے وہ وہم و فہم سے بالا ہے ۔ اگر تو کہے ”کب”؟ تو وقت اس کے وجود سے پہلے ہو جائے گا، اگر کہے ”کس جگہ” تو مکان پہلے ہوگا۔ وہ ہر مصنوع کیلئے علت ہے اس کے فعل کی کوئی علت نہیں اس کی ذات اور فعل کیفیت سے پاک ہے جس طرح آنکھیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں عقل اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اس کی ذات دیگرذوات جیسی اور اس کیصفات دیگر صفات جیسی نہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ثابت ہے ۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے

لَیْسَ کَمِثْلِہ شَیئٌ وَ ہُوَا السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ
”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ سمیع اور بصیر ہے”

ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جنت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا اور احادیث مبارکہ کے مطابق جنت ، دوزخ ، لوح ، قلم، حوض، پل صراط، شفاعۃ، میزان اور صور، عذاب قبر ، منکر نکیر کے سوال، شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے ایک قوم کو آگ سے نکالنے، مرنے کے بعد زندہ ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ نیز ہمارا عقیدہ ہے جنت دوزخ ہمیشہ رہیں گے جنتی ہمیشہ جنت میں اور دوزخی ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے مگر مومنین مرتکب کبائر ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہیں گے، اور اللہ تعالیٰ کے قول ”واللّٰہ خلقکم وما تعملون” کے مطابق اللہ تعالیٰ بندوں کے افعال کا خالق ہے جیسے کہ ان کی ذات کا خالق ہے ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام مخلوق اپنے مقررہ وقت پر مرجائے گی اور شرک اور تمام گناہ اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے ہیں لیکن مخلوق کا کوئی فرد اللہ تعالیٰ پر حجت قائم نہیں کر سکتا ۔ غالب حجت اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور وہ اپنے بندوںسے کفر اور گناہ کو پسند نہیں فرماتا۔ رضا اور ارادہ دو الگ الگ صنعتیں ہیں۔ ہم ہر مسلمان کے پیچھے نماز جائز سمجھتے ہیں نیک ہو یا بد۔ ہم کسی اہل قبلہ کو قطعی طور پر جنتی قرار نہیں دیتے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ خلافت قریش ہی کا حق (مسئلہ خلافت کی تحقیق کیلئے امام احمد رضا علیہ الرحمۃ کا رسالہ ”دوام العیش فی الائمۃ من قریش” دیکھیں نیز خلفاء اربعہ قریش ہی ہیں) ہے ، خلافت میں کسی دوسرے کے لئے قریش کے ساتھ جھگڑا کرنا جائز نہیں۔ ہم ظالم جابر حکمرانوں کے خلاف بھی بغاوت جائز نہیں سمجھتے(لیکن جابر حکمرانو کے سامنے کلمہ حق افضل جہاد ہے) جب تک مسلمان ہو اور ہم تمام آسمانی کتابوںاور انبیاء و رسل پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء افضل البشر ہیں لیکن نبی کریم افضل الابنیاء اور خاتم النبیینا ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ بعد از انبیاء حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ افضل بشر ہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور عشرہ مبشرہ، پھر وہ حضرات جن کی کے جنتی ہونے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی دی اور پھر وہ حضرات جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور پھر باعمل علماء۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ رسل خاص ملائکہ سے افضل ہیں اور خاص ملائکہ عام انسانوں سے افضل ہیں اور عام پرہیزگار مسلمان عام ملائکہ سے افضل ہیں ملائکہ کے بھی آپس میں درجات ہیں جس طرح مومنین کے مختلف ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ کامل مومن وہ ہے جو زبان سے اقرار بھی کرے، دل سے تصدیق بھی کرے اور ہاتھ پاؤں وغیرہ سے عمل بھی کرے۔ وہ جو اقرار نہیں کرتا وہ کافر ہے ، جو تصدیق نہیں کرتا وہ منافق ہے اقر جو بے عمل ہے وہ فاسق ہے۔ جو سنت کی پیروی نہیں کرتا وہ بدعتی ہے لو گ ایمان ثمرات کے لحاظ سےمختلف ہیں دل کی معرفت مفید نہں تا وقت یہ کہ زبان سے اقرار اور توحید و رسالت کی گواہی نہ دے الّا یہ کہ وہ شرعاً معذور ہو۔ بندوں کے افعال نہ سعادت کا سبب ہیں اور نہ شقاوت کا سعید اپنی ماںکے پیٹ سے سعید ہے اور شقی رحم ماد ر سے شقی ہے۔ عبادت پر ثواب محض اللہ کا فضل ہے، گناہ پرعذاب اللہ تعالیٰ کا عدل ہے۔ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں وہ جو چاہے کرتا ہے اور جو ارادہ فرمائے فیصلہ فرماتا ہے کوئی اس کا حکم مؤخر نہیں کرسکتا اور کوئی اسکے فیصلہ کو بدل نہیں سکتا۔ رضا اور ناراضگی دو قدیم صفتیں ہیں۔ بندوںکے افعال سے معتبر نہیں ہوسکتیں اللہ تعالیٰ جس پر راضی ہو اس سے جنتیوں والے کام لیتا ہے۔ا ور جس پر ناراض ہو جہنمی والے کام کرواتا ہے۔ کسی پر راضی اور کسی پر ناراض ہونے کی وجہ اور کلمہ کوئی نہیں جاسکتا اس لئے کسی نے کہا ہے کہ مجھے مسئلہ قضا و قدر نے قتل کردیا اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور قضا پر راضی رہنا مشکلات پر صبر کرنا نعمتوں پر شکر کرنا لوگوں پر واجب ہے۔ حدیث قدسی ہے کہ جو میری قضاء پر راضی نہیں اور میری طرف سے آئی ہوئی مصیبت پر صابر نہیں اور میری نعمتوں کا شکر ادا نہیںکرتا تو میرے سوا کوئی دوسرا رب تلاش کرے اور خوف و امید آدمی کیلئے لگام کا کام کرتی ہے اور اسے بے ادب ہونے سے روکتی ہیں اور ہر وہ دل جو ان دونوںسے خالی ہے وہ خراب ہے اور امر و نہی اور عبودیت کے احکام آدمی کیلئے لازم ہیںجب تک کہ وہ عاقل ہے ہاںجب اس کا دل اللہ کے ساتھ صاف ہو تو اس سے احکام تکلیفیہ کی مشقت ساقط ہو جاتی ہے نہ کہ نفس و جوب، اور بشریت کسی آدمی سے زائل نہیں ہوتی اگر چہ وہ ہوا میں اڑے البتہ بشریت کبھی ضعیف ہوتی ہے اورکبھی قوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بری صفات عرفا سے ختم ہوجاتی ہیں اور بندہ مختلف احوال سے گزر کر اہل روحانیت کی صفات پالیتا ہے اس کے لئے زمین سمٹ جاتی ہے وہ پانی پر چلتا ہے، ہوا میں اڑتا اور کبھی اپنی جگہ کے علاوہ کسی دوسری بستی یا صحرا میں نظر آتا ہے ۔ اللہ کیلئے محبت اور اللہ کیلئے بغض اعلیٰ ایمانی صفت ہے اپنی طاقت کے مطابق نیکی کی طرف دعوت اور برائی سے روکنا ہر شخص پر فرض ہے اولیائے کرام کی کرامات بالکل حق ہیں۔ اور کرامات معجزات انبیاء علیہم السلام کا ہی ایک حصہ ہیں کیونکہ پیرو کار کے کمال کی دلیل ہیں جبکہ پیروکار کا کمال اصل میں متبوع کا ہی کمال ہے کامل تر اورافضل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ آپ شفاعت کبریٰ اور وسیلہ عظمیٰ کے مالک ”قاب قوسین او ادنیٰ” کے تاج والے ”دنیٰ وفتدلیٰ” کے رموز و اسرار سے واقف ، اللہ تعالیٰ بے شمار رحمتیں اور برکتیں اور سلام آپ پر آپ کے مقدس مطہر آل اور صحابہ کرام پر نازل فرمائے (آمین ثم آمین)